آزادی مارچ کےلیے مولانا فضل الرحمن اور شہباز شریف کے درمیان مذاکرات جاری

0
57

پاکستان کی انتخابی تاریخ ہمیشہ سے ہی دھاندلی اور دھونس کے نعروں کے ساتھ نمایاں رہی. تقریباً ہر الیکشن میں ہاری ہوئ جماعت نے دھاندلی کا شور کیا جو شور و غوغہ اور دھینگا مشتی میں بدل گیا. 1977 کے انتخابات کے بعد پاکستان قومی اتحاد کی دھاندلی کے خلاف نہ صرف تحریک ذوالفقار علی بھٹو کو لے بیٹھی بلکہ ساتھ جمہوری نظام کا بھی بوریا بستر گول کر گئ اور ملک مارشل لاء کی ذد میں آ گیا.

2013 کے ا نتخابات کے بعد موجودہ وزیراعظم عمران خان نے نواز شریف حکومت کے خلاف تحریک چلائی جس نے مسلسل 122 دن اسلام آباد کو محصور کیے رکھا. 4 حلقوں میں دھاندلی سے شروع ہونے والا مطالبہ پورے نظام کےلیے خطرات کا باعث بنا رہا بالآخر سپریم کورٹ کے کمیشن کے قیام پر اتفاق رائے ہوا اور یوں یہ تحریک اپنے انجام کو پہنچی.

حالیہ انتخابات میں ہارنے والی جماعتوں نے دھاندلی کا راگ الاپا مگر خاطر خواہ توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے اور خاموشی اختیار کر لی. حکومت کی ایک سال کی بری کارگردگی نے اپوزیشن کو حوصلہ دیا اور انہوں نے اپنے ہتھیار تیز کرنے شروع کر دیے. چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب بنانے کےلیے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتحاد دیکھنے کو ملا مگر اپنوں کی بےوفائ نے اس منصوبے کو روند ڈالا اور اپوزیشن اتحاد کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا.
اِن ہاؤس تبدیلی کے منصوبے کو ناکام دیکھ کر جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے خود ہی کمر کس لی اور حکومت کو للکارتے ہوئے عمران خان کو 31 اگست تک مستعفیٰ ہونے کی ڈیڈ لائن دے دی. بصورت دیگر 10 لاکھ افراد کے ساتھ اسلام آباد کی طرف ملین مارچ کی دھمکی دے دی.

موسم کی شدت کے پیش نظر مولانا فضل الرحمن نے اکتوبر میں ملین مارچ کا عندیہ دیا جسے “آزادی مارچ” کا نام دیا گیا. آزادی مارچ میں مولانا نے اپوزیشن جماعتوں سے اتحاد کی کوششوں کا آعاز کر دیا مگر پاکستان پیپلز پارٹی نے ملین مارچ میں شمولیت سے معذرت کر لی. حالیہ دنوں مولانا فضل الرحمن اور شہباز شریف کے درمیان مذاکرات ہوئے جن میں شہباز شریف نے ملین مارچ میں شمولیت کےلیے گرین سگنل دے دیا اور حتمی فیصلہ پارٹی کی سنڑل ایگزیکٹو کمیٹی پر چھوڑ دیا.
شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان کامیاب مذاکرات سے اقتدار کے ایوانوں میں ہل چل یقینی ہے. اگر تو مولانا صاحب کراچی، کےپی کے اور اَپر بلوچستان سے خاطر خواہ تعداد میں اپنے حامیوں کو شہباز شریف مرکزی پنجاب سے لوگوں کو نکالنے میں کامیاب ہو گئے تو یقیناً یہ امر حکومت کےلیے نہایت صبر آزما ہوگا جس سے نمٹنے کےلیے زیرکی اور معاملہ فہمی کے ساتھ نمٹنا ہوگا.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here