حکومت کے قرضوں کا حجم کہاں تک پہنچ گیا اور کےکتنا قرض ادا کیا گیا

0
72

ان دنوں پاکستان کی معیشت انتہائی ناقص دور سے گزر رہی ہے. ملک میں سٹاک ایکسچینج ہنڈرڈ انڈیکس تیزی سے روبہ زوال ہے اور ڈالر کی قیمت آسمانوں کو چھو رہی ہے. مہنگائی کی شرح ڈالر کے ساتھ اونچی اڑان بھر رہی ہے. ایسے میں حکومتی قرضوں کا بوجھ 100 بلین ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے جو کہ آج کل 106.3بلین ڈالر کی ریکارڈ سطح پر موجود ہے.

موجودہ حکومت نے جب زمامِ اقتدار ہاتھ میں لی تو سب سے بڑا مسئلہ سالانہ قرضوں کی واپسی کا تھا جس کےلیے حکومت کے پاس وسائل کی شدید قلت تھی. مگر حکومتی اقدامات کی بدولت کچھ بہتری دیکھنے کو ملی اور پاکستان اس دلدل سے نکل آیا.

مالی سال 18 -2017 میں پاکستان نے 5.1 بلین ڈالر کے قرضے واپس کیے جبکہ اس سال پاکستان نے مالی سال19-2018 میں9.1 بلین ڈالر کے بیرونی قرضے واپس کیے. امید کی جا رہی ہے کہ رواں مالی سال پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی کے سلسلے میں زیادہ مشکل نہیں ہو گی کیونکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں خصوصاً آئ ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ کیے جانے والے قرض کے معاہدوں کی بدولت پاکستان کو خطیر رقم حاصل ہو گی.

مزید برآں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق آئ ایم ایف پہلے ہی 1 بلین ڈالر پاکستان کےلیے جاری کر چکا ہے جبکہ مزید 1 بلین ڈالر کی قسط نئے مالی سال میں جاری کرے گا. اسی طرح ایشیائی ترقیاتی بینک رواں مالی سال کے دوران مجوزہ 3.4 بلین ڈالرز میں سے 2.1 بلین ڈالرز کی رقم پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرے گا. اس کے علاوہ رواں مالی سال کے درمیان حکومت 2.8 بلین ڈالرز کے بانڈز جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ ملکی معیشت کو استحکام حاصل ہو سکے.

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق دوست ملک قطر کی جانب سے بھی 500 ملین ڈالرز کی قسط حاصل ہو گئی ہے. واضح رہے کہ قطر 3 بلین ڈالرز سٹیٹ بنک میں رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے. اس کے علاوہ سعودی عرب کی طرف سے 3.2 بلین ڈالرز مالیت کا ادھار تیل کی سپلائی بھی جولائی سے شروع ہو گئی ہے جس کی بدولت کافی حد تک پاکستان کو معاشی مسائل سے وقتی طور پر چھٹکارا ملے گا اور بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی میں گزشتہ برس کی طرح مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here