in

سمگنگ ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت آرڈننیس لانے کا فیصلہ۔

کہا تھا نا یہ نیا پاکستان ہے۔۔!! سمگنگ ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت آرڈننیس لانے کا فیصلہ۔۔۔ سمگل کرنیوالا منیجر نہیں مالک پکڑیں گے،وزیراعظم کے ایک اعلان نےپوری قوم کو چونکا دیا

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کورونا وائرس کے بعد پاکستان بھر میں نافذ جزوی لاک ڈاون میں مزید 2 ہفتے کی توسیع کا اعلان کر دیا گیا ہے ان کا کہنا ہے کہ دوسرے ممالک کی مناسبت سے ہمارے ہاں کورونا سے کم افراد متاثر ہوئے ،ہمیں اللہ کا

شکر ادا کر نا چاہیے تاہم کورونا کسی وقت بھی پھیل سکتا ہے، احتیاط کرنا نہیں چھوڑنا چاہیے، کورونا کا پھیلاو روکنے کے اقدامات کررہے ہیں ، ابتک ہم ٹھیک چل رہے ہیں،خدانخواستہ بے قاعدگی ہوئی تو ہم اس کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے ، اسکول کالجز ، عوامی مقامات پر اگلے دو ہفتے لاک ڈاو ¿ن برقرار رہے گا،تعمیراتی انڈسٹری کیلئے (آج) بدھ کو ایک آرڈیننس لارہے ہیں، تعمیراتی صنعت کو بہت بڑا ریلیف پیکیج دیں گے ،رمضان المبارک میں اجتماعی عبادات کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ جید علما سے ملاقات کے بعد کیا جائے گا،ملک سے گندم کی اسمگلنگ کا خطرہ ہے، اسمگلنگ کرنے والے کے منیجرکو نہیں مالک کوپکڑیں گے،رمضان کے مقدس ماہ میں اسمگلنگ اور ذخیرہ کرنے والوں کیخلاف سخت آرڈیننس لا رہے ہیں جس کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ منگل کو وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگلے دو ہفتے بھی لاک ڈاون برقرار رہے گا۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال پر غور کیا گیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں کورونا وائرس کے باعث ملکی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور کابینہ نے لاک ڈاون میں 30 اپریل تک توسیع کی منظوری دی۔لاک ڈاو ¿ن میں 30 اپریل تک توسیع کی حتمی منظوری اب قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) نے بھی دے دی ۔قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو لاک ڈاﺅن کی وجہ سے ہونے والی مشکلات کا احساس ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ ساری دنیا میں لاک ڈاﺅن ہوچکے ہیں، ہم نے بھی لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے لاک ڈاﺅن کیا۔عمران خان نے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ فکر دیہاڑی دارطبقے کی تھی۔وزیراعظم نے کہا کہ اسکول، کالج، سینما، اسپورٹس اور عوامی مقامات بند رہیں گے، ہمیں کورونا سے بچاو کی احتیاط چھوڑنا نہیں اور زیادہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونااسی رفتار سے بڑھا تو صورتحال قابو میں رہے گی، اگر زیادہ تیزی سے بڑھا تو ہمارا موجود نظامِ صحت مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ انہوںنے کہاکہ جس لحاظ سے یہ وائرس پھیل رہا ہے، اگر اسی طرح پھیلا تو ہمارا صحت کا نظام اس کا بوجھ برداشت کر لے گا جہاں ہم نے اس کی مدد کےلئے وینٹی لیٹرز، ادویہ، حفاظتی کٹس وغیرہ منوائی ہیں تاہم اگر ہم سے بداحتیاطی ہوئی اور یہ وائرس پھیلا تو پھر ہمارا نظام صحت اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکے گا۔وزیر اعظم نے قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے عوام نے تعاون کرتے ہوئے وائرز کو زیادہ تیزی سے پھیلنے سے روکنے کیلئے بھرپور تعاون کیا جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں ۔انہوںنے کہاکہ ہم نے جو کم از کم تخمینہ لگایا تھا اس لحاظ سے اب تک 190 اموات ہونی چاہئے تھیں لیکن ہمارے موثر اقدامات اور لاک ڈاو ¿ن کی بدولت آج اموات کی تعداد اس کی نسبت انتہائی کم ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے اقدامات کی بدولت کیسز ہم ننے جو اندازہ لگایا تھا اس کے مقابلے میں صرف 30فیصد رپورٹ ہوئے ہیں جو ایک اچھی خبر ہے اور امریکا، اٹلی اور اسپین سمیت باقی دنیا کے مقابلے میں ہمارے ملک میں اموات بھی بہت کم ہوئیں،

ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کہ کورونا کسی وقت بھی پھیل سکتا ہے، احتیاط کرنا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ عمران خان نے کہاکہ نوجوانوں کو کورونا اتنا متاثر نہیں کرتا تاہم وہی نوجوان اپنے گھر میں بزرگوں کی زندگی مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ کورونا کا پھیلاو روکنے کے اقدامات کررہے ہیں ، ابتک ہم ٹھیک چل رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ خدانخواستہ بے قاعدگی ہوئی تو ہم اس کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے ، اس لیے ہم لاک ڈاون کو آگے لے کر جارہے ہیں ۔وزیراعظم نے کہاکہ کورونا وائرس کا پھیلاو روکنے کےلئے ہم نے کرکٹ میچ، گراونڈ، دکانیں، شاپنگ مال، شادی ہال سمیت جہاں بھی لوگ جمع ہوسکتے تھے ان سب کو بند کردیا کیونکہ اگر ایسا نہ کرتے تو وائرس تیزی سے پھیل سکتا تھا۔وزیر اعظم نے کہاکہ اس وائرس کی ایک عجیب چیز ہے کہ جہاں بھی لوگ جمع ہوتے ہیں وہاں یہ تیزی سے پھیلتا ہے اور اسی لیے دنیا بھر میں لاک ڈاو ¿ن کردیے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔وزیراعظم کہا کہ مجھے لاک ڈاﺅن سے دیہاڑی دار اور روز کمانے والوں کی پریشانیوں کا اندازہ ہے، لوگ بڑی تعداد میں بیروزگار ہو رہے ہیں اس لیے کنسٹرکشن سمیت کچھ صنعتوں کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ تعمیراتی صنعت میں رسک فیکٹر بہت کم ہے، تعمیراتی انڈسٹری کیلئے (آج) بدھ کو ایک آرڈیننس لارہے ہیں، تعمیراتی صنعت کو بہت بڑا ریلیف پیکیج دیں گے اور تعمیراتی صنعت کھول رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم دو محاذوں پر لڑ رہے ہیں جس میں سے ایک کورونا وائرس کا پھیلاوروکنا ہے

اور دوسرا مسئلہ بیروزگاری ہے جو سب جگہ پھیل چکی ہے اور ہمیں لاک ڈاون برقرار رکھتے ہوئے انہیں ریلیف فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ غریبوں کی مدد کے لیے ہم نے احساس پوگرام شروع کیا جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے اور کبھی بھی اتنی جلدی ہمارے ملک میں ایمرجنسی پروگرام متعارف نہیں کرایا گیا۔ وزیر اعظم نے اپنے پرانے موقف کو ایک مرتبہ پھر دہراتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام میں کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہے اور مجھے فخر ہے کہ یہ مکمل طورپر میرٹ پر ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ جو لوگ اس پروگرام میں ابتدائی طور پر چھوٹ گئے ہیں ان کے لیے ایس ایم ایس سروس شروع کی جا رہی ہے جس کے ذریعے انہیں بھی 12ہزار روپے کی رقم مل سکے گی۔عمران خان نے بتایا کہ احساس پروگرام کے تحت اب تک 28لاکھ خاندانوں کو پیسہ مل چکا ہے اور ان میں 45ارب روپے تقسیم کیے گئے ہیں اور یہ پروگرام چلتا رہے گا۔وزیر اعظم نے کہاکہانتظامات کیے گئے ہیں کہ گندم کی کٹائی میں رکاوٹ نہ ہو۔

انہوںنے کہاکہ ملک سے گندم کی اسمگلنگ کا خطرہ ہے، پاکستان سے ڈالر بھی اسمگل ہوجاتے ہیں، اسمگلنگ کرنے والے کے منیجرکو نہیں مالک کوپکڑیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تعمیرات کا شعبہ سب سے زیادہ روزگار فراہم کرتا ہے اسی لیے اسے کھولنے کو فیصلہ کیا جب کہ صوبے ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ صنعتوں کو کھول دیں گے۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ رمضان المبارک میں اجتماعی عبادات کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ مختلف فقوں سے تعلق رکھنے والے جید علما سے ملاقات کے بعد کیا جائے گا۔وزیراعظم عمران نے ذخیرہ اندوزوں کو خبردار کرتے ہوئے

کہا کہ رمضان کے مقدس ماہ میں اسمگلنگ اور ذخیرہ کرنے والوں کیخلاف سخت آرڈیننس لا رہے ہیں جس کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کا اختیارات حاصل ہیں کہ وہ وفاق کے بجائے اپنے فیصلے خود کرسکیں تاہم اجلاس میں شریک وزرائے اعلیٰ نے بھی ان اقدامات کی حمایت کی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بیرون ملک میں پاکستانیوں کولانے کے حوالے سے صوبوں کو کچھ تحفظات ہیں۔ کورونا وائرس پاکستان میں باہر سے آنے والے لوگوں کی وجہ سے پھیلا۔ کورونا وائرس کے باعث وفاقی کابینہ نے لاک ڈاون میں 30 اپریل تک توسیع کی منظوری دے دی ہے۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ اجلاس ہوا جس میں 6 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں کورونا وائرس کی مجموعی صورتحال کا جائزہ اور ملکی معاشی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے گزشتہ اجلاسوں میں ہونے والے فیصلوں کی توثیق کردی۔ اس کے علاوہ احساس ایمرجنسی کیش ٹرانسفرز پر ایڈوانس انکم ٹیکس چھوٹ، کورونا سے بچاوَ اور احتیاط سے متعلق درآمدات پر برانڈ کی شرط ختم کرنے اور اسلام آباد چڑیا گھر کا کنٹرول وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے سپرد کرنے کی منظوری دے دی جب کہ ای او بی آئی پینشن میں اضافے کی سمری موخرکردی گئی ہے۔کابینہ کے اجلاس میں لاک ڈاون میں 30 اپریل تک توسیع کی منظوری بھی دے دی ہے تاہم لاک ڈاون میں 30 اپریل تک توسیع کی حتمی منظوری قومی رابطہ کمیٹی دے گی۔لاک ڈاون کے بعد کھلنے والے شعبوں سے متعلق قوائد و ضوابط بھی طے کرلیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ہنرسے متعلق تجارت اورکاروباربھی کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد درزی، پلمبر، الیکٹریشن، مکینک اورحجام کے کاموں پرکوئی پابندی نہیں ہوگی۔ فضائی سفر اور پبلک ٹرانسپورٹ سمیت عوامی اجتماعات، شادی ہالز، سینمازاورعوامی مقامات بند رہیں گے۔حکومت نے تعمیراتی شعبے سے منسلک دیگرشعبے بھی کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تعمیراتی شعبے میں مختلف منصوبوں کی ذمہ داری صوبوں کے درمیان طے کی جائے گی۔ ہرصوبہ زیرالتواءترقیاتی اورتعمیراتی منصوبوں سے متعلق حکمت عملی بنائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

امریکیوں نے متحدہ عرب امارات کو چھوڑنے سے انکار کر دی

وزیر اعظم نے انسانیت کے دِل جیت لیے۔