in

صف اول کے کالم نگار کا خصوصی تبصرہ

سینیٹ کے انتخابات سے متعلق ایک اور عنصر یہ ہے کہ اپوزیشن اور پی ٹی آئی کی حکومت ایک دوسرے کے صوبائی اسمبلی کے ارکان کو کتنا اپنا حامی بناپاتے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کے ووٹ پی ایم ایل این ‘ پی پی پی کی طرف چلے جاتے ہیں تو سینیٹ الیکشن کے فوراً

نامور کالم نگار ڈاکٹر حسن عسکری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔بعد وہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کیلئے کوشش کرسکتی ہیں۔ اگر تحریک انصاف اپوزیشن جماعتوں کے بھی ووٹ حاصل کر لیتی ہے تو ‘ عدم اعتماد کی تحریک لانے کے خیال کو یکسر ختم کردیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں حکومت گرانے میں ناکامی کے باوجود ‘ پی ڈی ایم میں مستقبل میں پی ٹی آئی کی حکومت کیلئے مسائل پیچیدہ کرنے کی صلاحیت موجودہے۔

تاہم ‘ اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ سینیٹ کے انتخابات کے بعد وہ تحریک انصاف کی حکومت کو ہٹانے میں کامیاب ہوسکیں گی یا نہیں۔ اگر پی ٹی آئی کی حکومت پی ڈی ایم کے چیلنج کو غیر مؤثر بنانا چاہتی ہے تو اسے اپنی حکمرانی کی حکمت عملیوں کو تبدیل کرنا ہوگا۔

وزیر اعظم کو اپوزیشن کو این آر او نہ دینے کے نعرے کو ترک کرنا اور حکمرانی کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دینا ہو گی۔ علاوہ ازیں ان اقتصادی امور پر توجہ دینا ہو گی جو لوگوں کیلئے پریشانی کا سبب ہیں۔ حکومت اور پی ڈی ایم‘ دونوں کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کو ختم کرنے کی حکمت عملی ترک کریں اور پارلیمانی جمہوریت میں ایک دوسرے کے سیاسی کردار کو قبولیت بخشیں۔ اگر پی ڈی ایم اور تحریک انصاف جمہوریت اور کانسٹیٹیوشن ازم کے کاز سے مخلص ہیں تو انہیں انتخابی اصلاحات پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل کے الیکشنوں کو ہارنے والی جماعت کیلئے قابلِ قبول بنایا جا سکے۔

ان کی مشترکہ توجہ کے قابل ایک اور اہم شعبہ معیشت ہے‘ علاوہ ازیں یہ معاملہ کہ ریاستی کاروباری اداروں کو کس طرح منظم کرنا ہے۔ پاکستان کے معاشرتی و اقتصادی مسائل کی وجہ سٹرکچرل اور وسائل کی کمزوریاں اور غیر مساوی تقسیم ہے۔ ان مسائل کا حل مستحکم سیاست اور بات چیت میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

حکومت کے وزراء نے کیا کہنا شروع کر دیا ہے؟ جاوید چوہدری کے ناقابلِ یقین انکشافات