لیگی رہنماء کی گرفتاری میں اس خاتون کا کیا کردار ادا کیا؟

0
4

سینئر اینکر پرسن اسامہ غازی کا کہنا ہے کہ احسن اقبال کو ویسے تو اسپورٹس سٹی میں کی جانے والی کرپشن کے باعث گرفتار کیا گیا ہے لیکن انکے اور بھی بہت سارے معاملات ہیں، اپنے ویڈیو پیغام میں انکا کہنا تھا کہ احسن اقبال کہتے ہیں کہ یہ اسپورٹس

سٹی ہوا تو پیپلز پارٹی کے دور میں شروع لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں ہوشربا اضافہ ہوتا چلا گیا، اور یوں غریب قوم کا 6 ارب روپیہ اس پراجیکٹ کی نظر ہوگیا، اور اہم بات یہ ہے کہ یہ سارا پیسہ اس چالیس ایکڑ زمین پر خرچ کیا گیا جو کہ بھارت سے تقریباً آٹھ سو میٹر دور ہے بھارت کے بارڈر سے، وہاں پر سیکورٹی خدشات کے باوجود اس جگہ پر اربوں روپے لگا دیئے گئے، حیرانگی کی بات یہ ہے یہ ساری رقم پی اسی ڈی پی فنڈز سے نکالی گئی جو کہ پلوں ، ڈیمز اور سڑکوں کی تعمیر کے لیے رکھے گئے تھے۔

حسن اقبال کو گرفتار بھی اسی لیے کیے گیا ہے کیونکہ ان پر الزامات تھے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر پی ایس ڈی پی کا فنڈ ا استعمال کیا، اسپورٹس بورڈ کا فنڈ بھی غیر قانونی طور پر استعمال ہوا، سابق ڈی جی اسپورٹس بھی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں انہوں نے ہی کہا ہے کہ احسن اقبال نے بہت خورد برد کی ہے اس پراجیکٹ میں، یہ کیس تو ہواگیا جو نیب میں ان پر چل رہا ہے۔اُسامہ غازی کا کہنا ہے کہ احسن اقبال کے بھائی کو پی ایچ اے کا چیئرمین منتخب کیا گیا، احسن اقبال کس طرح ٹرانسفر اور پوسٹنگ کرتے تھے انکا طریقہ بھی بڑا حٰران کُن تھا، ایک خاتون جن کا لاہور سے تعلق تھا وہ بہت مشہور تھیں، میں انکے کردار پر بات نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی کسی کی کردار کشی، ایک صاحب کو

ایس ڈی او تعینات کر دیا گیا، جنہیں ایس ڈی او تعینات کیا گیا ان کے اس خاتون کے ساتھ تعلقات تھے، وہ اس خاتون کے پاس گئے اور اپنے آپ ڈی سی لگنے کی سفارش کی، اس خاتون نے فون اُٹھایا اور سیدھا احسن اقبال کو گھما دیا، ایسی خواتین کے ساتھ احسن اقبال کا تعلق تھا، اور جو ان دونوں کے درمیان گفتگو ہوئی ہے وہ یہاں پر بیان نہیں کی جاسکتی، وہ خاتون پتہ نہیں اس وقت کہاں ہیں اور کیوں غائب ہیں، لیکن انہوں نے جب احسن اقبال سے سفارش کی تو موصوف نے آگے سے جواب دیا کہ آپ کی خاطر کچھ بھی ہوسکتا ہے

، اس خاتون کے کہنے پر احسن اقبال نے اُن صاحب کو ڈی سی او نارروال تعینات کر دیا گیا ،۔ پھر انہوں نے نارروال پہنچتے ہی احسن اقبال کے لیے کماؤ پوت کا کردار ادا کیا اور ببے تحاشہ دولٹ سمیٹ کر احسن اقبال کی جھولی میں ڈال دی ، یہ معیار تھا تعیناتیوں کا، سفارشوں کا ، اور تعلقات ایسی خواتین کے ساتھ تھے جن کے کردار کے بارے میں بات کرنا میں یہاں پر مناسب ہی نہیں سمجھتا ، ایسی خواتین کی خواہشوں پر احسن اقبال وزیر اعلیٰ سے کہہ کر سب کچھ کرتے تھے، اور خود احسن اقبال کہتے پھر رہے ہیں کہ نیب حکومت کا گٹھ جوڑ ہے، انہیں انتقامی سیاست کا نشانہ بنایا جارہا ہے بلا بلا لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ کتنی کرپشن اور کیوں کی ہے تو آگے سے الزامات لگا دیتے ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here