با لی وڈ انڈسٹری کے شرمناک کارنامے ،ایکٹریس کو کیسے ہیرس کیا جاتا جاتا ہے

0
70

بولی وڈ انڈسٹری دنیا کی مشہور فلم انڈسٹریز میں سے ایک ہے اور اس انڈسٹری میں ہر سال ہزاروں فلمیں ریلیز ہوتی ہیں جن میں سینکڑوں کے حساب سے اداکار ،اداکارائیں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔بھارت کی آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے بولی وڈ انڈسٹری میں خوبصورت اور ہونہار اداکاراؤں کی بھرمار ہے جس کی وجہ سے نئے فنکاروں کے لئے اس انڈسٹری میں قدم رکھنا اور قدم جمانا انتہائی مشکل کام ہے۔اول تو بولی وڈ انڈسٹری میں انٹری بہت مشکل ہے لیکن اگر کسی طریقے سے کوئی اس انڈسٹری میں داخل ہو گیا ہے تو اُسے اس میں رہنے کے لئے بہت سے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔۔

بھارت میں نوجوان اداکاراؤں سے پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز کی جانب سے جنسی تعلقات کی خواہش کا مطالبہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔آۓ دن ایسے واقعات اخبارات اور ٹی وی چینلز کی زینت بنے رہتے ہیں۔ذرائع کے مطابق بولی وُڈ انڈسٹری میں پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز کا نئے اور جونیئر اداکاراؤں سے رویہ زیادہ اچھا نہیں۔ایکٹنگ کی خواہش مند نوجوان لڑکیاں جب فلم انڈسٹری میں کام کرنے کے لئے آتی ہیں تو انکو فحاشی کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔ڈائریکٹرز بہانے بہانے سے اُنکے جسم کے ممنوع حصوں پر ہاتھ لگاتے ہیں اور انکو اپنے ساتھ رات سونے کی آفرز کرتے ہیں اور اگر کوئی لڑکی انکار کرے تو اُسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ فلم کی کاسٹ سے نکال دیا جاتا ہے۔بہت سی لڑکیاں نہ چاہتے ہوئے بھی اداکاری کے شوق سے مجبور ہو کر شوبز سے وابستہ لوگوں کی ان جنسی آفرز کو قبول کر لیتی ہیں جس کے بعد انکو اور زیادہ بلیک میل کیا جاتا ہے اور زیادہ قبیح مطالبات کیے جاتے ہیں۔۔۔

بولی وڈ انڈسٹری نے جب سے ہولی وُڈ انڈسٹری کے ساتھ مقابلہ کرنا شروع کیا ہے تب سے بھارتی فلموں میں فحش سینز کی بھرمار ہے جس سے معاشرے میں فحاشی اور غلط روایات پھیل رہی ہیں۔ہر نئی اداکارہ اپنے کیرئیر کے آغاز میں جنسی ہراسانی کا سامنا کرتی ہے جب کہ اُن میں سے چند ایک ہی اس کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں کیوں کہ فلموں میں چھوٹے کپڑے پہننے والی اداکاراوں کو عام طور فحش خیال کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے لوگ اُنکا مذاق اڑاتے ہیں۔1998 میں ہندی فلموں میں قدم رکھنے والی نیرو باجوہ نے اپنی پہلی فلم کے بعد ہی بولی وُڈ انڈسٹری کو خیر آباد کہہ دیا کیوں کہ اُنکے بقول انکو قابل اعتراض کام کرنے کا کہا گیا۔نیرو باجوہ اب پنجابی فلموں سے منسلک ہیں اور حال ہی میں “لانگ لاچی” فلم سے شہرت پائی ہے۔اداکارہ اوشا بھی بولی وُڈ انڈسٹری میں جنسی ہراسانی کے واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فلم میں رول کے بدلے انکو بھی جنسی تعاون کرنے کا کہا گیا جسے انہوں نے مسترد کیا۔اسکے علاوہ “پیڈ مین” فلم میں کام کرنے والی اداکارہ رادیکھا نے بھی جنسی ہراسانی کے خلاف آواز بلند کی ہے اور اُنکے مطابق اس لعنت کو ختم کرنے کے لیے باقی لوگوں کو بھی اس کے خلاف آواز بلند کرنا ہو گی۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here