وزراء کو سازشیں کرنامہنگا پڑ گیا

0
28

وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ ہمارے صوبے میں انتشار تھا، اس کو ہم نے ختم کر دیا، صوبائی حکومت کے خلاف جو سازش کر رہے تھے، ان کو نکال دیا، انشاء اللہ کل تک بلوچستان اور پنجاب کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق نوشہرہ

قاضی میڈیکل کمپلیکس میں ڈائلاسز سنٹر کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک کہنا تھا کہ ہمارے صوبے میں انتشار تھا، اس کو ہم نے ختم کر دیا۔پرویز خٹک نے کہا کہ صوبائی حکومت کے خلاف جو سازش کر رہے تھے، ان کو نکال دیا، انشاء اللہ کل تک بلوچستان اور پنجاب کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں۔ جو معاہدہ کیا گیا تھا، اس پر عمل در آمد جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی پارٹی کے خلاف جس نے باتیں کی ہیں، ان کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ پارٹی میں انتشار پیدا کرنے والوں سے جواب طلب کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ان وزرا کے اگر اپنے ذاتی مسئلے حل ہوتے ہیں تو پھر حکومت ٹھیک، اگر نہ ہو تو حکومت کرپٹ، اگر کوئی مسئلہ تھا تو مجھ سے بات کرتے، انتشار پھیلانے کی ضرورت نہیں تھی۔

ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ فواد چودھری کا ہمارے صوبے کے وزرا سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی عمل دخل ہے۔ خیال رہے کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی سے 3 وزرا کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا، عاطف خان، شہرام ترکئی اور شکیل خان کو عہدے سے فارغ کر دیا گیا، تینوں وزرا خیبر پختونخواہ میں پریشر گروپ کے کرتا دھرتا تھے۔ گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرریونیو خیبر پختونخواہ شکیل خان کا کہنا تھا کہ صوبے میں کچھ اداروں میں کرپشن ہو رہی ہے، ہم کرپشن کے خلاف ووٹ لے کر اسمبلی میں آئے تھے، اس پر قابو پانا چاہیے۔انھوں نے کہا تھا کہ

خیبر پختونخواہ کے کچھ محکموں میں کرپشن ہو رہی ہے، کچھ بیوروکریٹس جو کہ صوبے میں بیٹھے ہوئے ہیں وہ مختلف ڈیپارٹمنٹس میں مداخلت کر رہے ہیں اور میرٹ کے برعکس تقرریاں و تبادلے کر رہے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ یہ تمام اعتراضات وزیراعظم عمران خان کے سامنے رکھیں گے۔قبل ایں وزیراعلیٰ محمود خان کے خلاف کے پی کے 5 وزراء اور 20 ایم پی اے متحد ہو گئے تھے۔خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور پانچ صوبائی وزرا کے مابین سنگین اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔

وزرا نے دھمکی دی تھی کہ اگر گورننس میں بہتری نہ آئی تو وہ استعفیٰ دیں گے۔کم از کم 20 ایم پی اے اور پانچ وزراء نے پارٹی کے اندر ایک گروپ تشکیل دیا تھا۔ وہ اس بات پر مایوس تھے جس کو وہ وزیراعلیٰ محمود خان کی ناقص کارکردگی قرار دیتے تھے۔ ان کا الزام تھا کہ صوبے میں بدعنوانی اور کمیشن کا تناسب بڑھ گیا ہے ، جس نے خیبرپختونخواہ کی حکومت کو پنجاب کی نسبت بدتر قرار دیا ہے۔انہوں نے محمود خان کو عثمان بزدار پلس کے طور پر اعلان کیا تھا، انہوں نے الزام لگایا تھا کہ وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری صوبے میں پورا شو چلارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سازش میں دو یا تین وزرا ملوث ہیں کیونکہ انہوں نے کابینہ میں اپنے قریبی اور عزیزوں کو ایڈجسٹ نہیں کیا تھا۔

میرا بھائی میرے علاقے کی مقامی سیاست میں سرگرم ہے اور وہ میرے حلقے کی نگرانی کرتا ہے لیکن کبھی بھی حکومتی امور میں مداخلت نہیں کرتا ہے۔ وزرا کو ناقص کارکردگی پر تبدیل کیا گیا تھا اور اگر ان کی کارکردگی میں بہتری نہیں آتی ہے تو انہیں جلد ہی ختم کردیا جائے گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ نااہل وزراء کو نیا محکمہ کیوں دیا گیا ہے ، تو انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے انھیں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا موقع دیا ہے بصورت دیگر انہیں ہٹا دیا جائے گا۔بدعنوانی اور بیڈ گورننس کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ میرے پرنسپل سکریٹری میری طرف سے کام کر رہے ہیں اور صرف میرے احکامات پر بات کرتے ہیں۔

 

مجھے کسی وزیر یا عہدیدار کے خلاف بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ اگر کوئی بدعنوانی میں ملوث پایا گیا یا کمیشن لے رہا ہے تو میں سخت کارروائی کروں گا۔ محمود خان نے کہا تھا کہ عمران خان نے انہیں وزیر اعلی نامزد کیا ہے اور انہیں کسی کو بھی کابینہ میں شامل کرنے یا شامل کرنے کا اختیار دیا ہے۔”میں کسی کی کابینہ سے استعفی دینے کی فکر نہیں کرتا ہوں۔ ان وزرا کی کارکردگی غیر اطمینان بخش ہے اور میں ان کو جلد ہی ہٹانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے مجھ پر مکمل اعتماد ظاہر کیا ہے اور کسی کی جگہ لینے کے لئے مجھے آزادانہ ہاتھ دیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here