اپوزیشن جماعتوں کو ایک اور موقع حالیہ حکومت کے خلآف بولنے کامل گیا

0
94

اسے رواں حکومت کی ناقص معاشی منصوبہ بندی کہا جائے تو غلط نہ ہو گا یا بد قسمتی , لیکن جس زاویے سے بھی پرکھا جائے تو یہ بات عیاں ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں ابھی تک ناکام نظر آرہی ہے _ کنزیومر پرائس انڈیکس CPI کے مطابق ستمبر 2019میں توانائی اور دیگر کھانے پینے کی چیزوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کی شرح میں 11۰4%کے حساب سے اضافہ ہوا ہے جو کہ گزشتہ ماہ سے0۰9% زیادہ ہے _ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے پالیسی ریٹ کا تعین کرنے کے لئے سنٹرل بینک آف پاکستان کا ٹارگٹ ریٹ تبدیل کر دیا ہے ۔

رواں مہنگائی میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اب مہنگائی کی شرح میں اضافے کا تعین 11-12%تک کیا ہے اور انٹرسٹ ریٹ 13.25% مقرر کیے ہیں

مہنگائی کی شرح میں اضافے کا تعین کرنے کے لئے ایک نیا طریقہ متعارف کرایا گیا تھا جس کے تحت یہ اضافہ 10۰49%رھا جو گزشتہ 69مہینوں کی بہ نسبت سب سے زیادہ ہے , تاہم اگر پرانے طریقے سے اس شرح کا اضافہ کیا جائے تو یہ 12۰55%ہوتا
لیکن دونوں صورتوں میں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک پینل تشکیل دیا ہے جو کہ اسکا تعین کرے گا کہ کن اشیاء کی وجہ سے یہ اضافہ ہوا ۔ تاکہ آئندہ احتیاط کر کے ایکسچینج ریٹ میں توازن لایا جا سکے اور مانیٹری پالیسی ریٹ میں کمی لائی جائے _ بتایا جاتا ہے کہ 19ایسی بنیادی ضرورت ذندگی کی اشیاء ہیں جن کی قیمتوں میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہوا جس سے مہنگائی کی شرح بڑھی _ سب سے پہلے نمبر پر گیس کا ریٹ ہے جس میں 114۰64%کے حساب سے اضافہ ہو ا , اس کے علاوہ پیاز،پیٹرول ،گوشت ،ٹماٹر اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی کافی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو کہ رواں حکومت کی کارردگی کیلئے سوالیہ نشان ہے…..

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here