بیرون زر مبادلہ کے ذخائر میں ہونے والی غیرمعمولی کمی موجودہ حکومت کے لیے درد سر بن گئ

0
83

سٹیٹ بنک آف پاکستان کی جمعرات کے روز ایک جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سنٹرل بنک کے بیرون زر مبادلہ کے ذخائر 8.57% کی شرح سے ہفتہ وار بنیاد پر ریکارڈ کیے گئے اور 8بلین کے نشان سے بھی نیچے چلے گئے _ چونکہ پاکستان اس وقت ایک ایسی صورتحال سے گزر رہا ہے کہ جب ایک معمولی سی بے احتیاطی ملکی معاشی حالت کو انتہائی بحرانی کیفیت میں لے جا سکتی ہے , اور اس طرح کے حالات میں زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی واقع ہونا یقینی طور پر ایک تشویش ناک امر ہے _ اس سے قبل بھی زر مبادلہ کے ذخائر 7ملین کے پوائنٹ سے نیچے چلے گئے

ان ہونے والے معاشی فقدانوں کی سب سے بڑی وجہ اس ملک پر واجب الادا دوسرے ممالک سے لیا گیا قرضہ ہے جو کہ ابھی تک چکانے کا نہیں سوچا گیا _ اگرچہ کہ متحدہ عرب امارات , سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک کی مالی امداد سے پاکستان اس معاشی بحران پر قابو پانے میں کسی حد تک کامیاب رہا ہے لیکن 27 ستمبر کی رپورٹ کے سامنے آ جانے کے بعد پاکستان ایک اور رکاوٹ سے دو چار ہوا ہے جو کہ اس کی ترقی کی راہ میں حائل ہوئی ہے _ اس رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ بیرون زر مبادلہ کے ذخائر 7741.6 ملین ڈالرز پر ریکارڈ کیے گئے جو کہ گزشہ ہفتے سے 723.7 ملین ڈالر کم ہیں جبکہ گزشتہ ہفتے یہ 8465.3 ملین ڈالر ریکارڈ کیے گئے تھے

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف IMF سے پاکستان کی حالیہ حکومت نے پہلا مالی قرضہ جو لیا اس کی مالیت تھی 991.4 ملین ڈالر , اس کے ساتھ ساتھ اس ادارے کی لاگو کردہ شرائط سے معاشی تجزیہ کار یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ ممکن ہے اس موجودہ وقت کی مشکلات پر اس طرح کے قرضوں سے قابو پا لیا جائے لیکن یہ کوئی لانگ ٹرم حل ہر گز نہیں ہے بلکہ اس سے مستقبل میں ملک پر مزید بوجھ بڑھے گا اور روپے کی قدر و قیمت میں مزید کمی ہو گی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here