عمران خان ٹرمپ کی درخواست کے بعد امریکہ اور ایران میں ثالثی کا کردار ادا کریں گے.

0
21

امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات انتہائی خراب صورتحال سے دوچار ہیں. امریکی صدر بارہا ایرن کو دنیا کی نمبر ون دہشت گرد ریاست قرار دے چکے ہیں اور ہمیشہ ایران کے خلاف جارحانہ بیان بازی کرتے نظر آتے ہیں. دوسری جانب ایران بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیتا ہے اور یوں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں مزید دراڑ دیکھنے کو مل رہی ہے.

ان دنوں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سمیت تقریباً تمام ممالک کے سربراہان اقوام متحدہ کے سالانہ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے امریکہ کے شہر نیویارک میں موجود ہیں. چند روز قبل عمران خان نے بیان دیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات میں ایران کے ساتھ ثالثی کی درخواست کی جس کے بعد انہوں نے فوراً ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کی اور انہیں اس سلسلے میں امریکی صدر کے خیالات سے آگاہ کیا.

ساتھ ہی ساتھ وزیراعظم عمران خان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی ایران کے ساتھ ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی اور سعودی آئل ٹینکر کے واقعے کے بعد بگڑتی ہوئ صورتحال کو قابو میں لانے کی درخواست کی.

ایران کے ساتھ امریکہ کی 2015 میں سول نیوکلیئر ڈیل کے بعد تعلقات میں بہتری آئی تھی جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو پس پشت ڈال کر اس ڈیل کو منسوخ کردیا تھا اور ایران پر کڑی پابندیاں عائد کر دی تھیں. تب سے لے کر اب تک ایران اور امریکہ کے تعلقات میں مسلسل سرد مہری دیکھنے میں آرہی ہے. چند ماہ قبل ایران نے امریکہ کا ایک ڈرون طیارہ تک مار گرایا تھا جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ مزید بڑھ گیا. رہی سہی کسر سعودی آئل ٹینکر کی پراسرار تباہی نے نکال دی جب عالمی برادری نے ایران کو ان حملوں کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا.

اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں شریک جرمنی، فرانس اور جاپان کے سربراہان بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے اور انہیں ایران کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کریں گے. بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر حالات درست سمت جاتے دکھائی دیتے نظر نہیں آ رہے. ان حالات میں میں وزیراعظم عمران خان کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر کے کشیدگی کو کم کرنا کسی کارنامے سے کم نہیں ہو گا. دیکھتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اس مشن کی تکمیل میں کس حد تک سرخرو ہو پاتے ہیں.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here