عمران خان نے اسلامی ممالک کے سربراہان کو عشائیہ دیا. کشمیر کی آزادی کا موقف کس سمت لے کے جا رہے ہیں.

0
22

وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں کشمیر کا مقدمہ لرنے کےلیے ان دنوں امریکہ کے شہر نیویارک میں موجود ہیں جہاں عالمی برادری کے سربراہان سالانہ اجلاس میں شرکت کے لئے آئے ہوئے ہیں. گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے اسلامی ممالک کی تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان کو عشائیہ دیا جس میں متعدد سربراہان نے شرکت کی. اس عشائیے کا مقصد اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلے پر سپورٹ حاصل کرنا تھا تا کہ عالمی برادری کا کشمیر کے مسئلے کے حل کےلیے ضمیر جگایا جا سکے اور انسانیت سوز مظالم کو روکا جا سکے.

عالمی برادری میں پہلے ہی پاکستان تنہائی کا شکار ہے اور پرانے دوست ممالک اب آنکھیں چراتے نظر آتے ہیں. عظیم طاقتوں کی طرف سے کشمیر کے مسئلے سے چشم پوشی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ دنیا بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کے قیام اور بڑھوتری میں اس قدر اندھی ہو چکی ہے کہ اس کا ضمیر مردہ ہو چکا ہے اور وہ مسلسل اس مسئلے کو نظرانداز کر رہی ہے.

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز بیان دیا کہ جب بھی کبھی کشمیر کے مسئلے پر کوئی ملک ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہے تو بھارت اسے دوطرفہ معاملہ قرار دیتا ہے مگر اس مسئلے پر وہ پاکستان سے مذاکرات سے بھی انکاری ہے. اس لیے عالمی برادری کی توجہ کشمیر کی طرف مبذول کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے.
کشمیر کے مسئلے پر اسلامی ممالک بھی پاکستان کے موقف کی یکساں حمایت نہیں کر رہے. خاص طور پر برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات پاکستان کے لیے شدید تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں. ایسے میں ترکی اور ملائشیا کے سربراہان کی طرف سے بھرپور حمایت کپتان کے حوصلے بڑھا رہی ہے. موجودہ تناظر میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کا اسلامی ممالک کے سربراہان کو دیا جانے والا عشائیہ ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے. اگر تو تمام اسلامی ممالک یک آواز ہو کر بھارت کے بڑھتے ہوئے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے میں کامیاب ہو گئے تو یقیناً یہ پاکستان کی ایک بڑی کامیابی تصور ہو گی اور عمران خان کا کشمیر مشن رائے عامہ ہموار کرنے میں نمایاں سنگ میل عبور کرے گا.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here