نیب کیس میں کتنی رقم کی وصولی کتنی پیش رفت ہو چکی ہے

0
60

عمران خان نے جب اپنی سیاست کا آغاز کیا تو کرپشن کا خاتمہ اُن کے منشور کا سب سے اہم جزو تھا۔کیوں کہ اُن کے نزدیک پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔عمران خان نے 90 روز کے اندر کرپشن ختم کرنے کا دعویٰ بارہا دہرایا لیکن جب 2013 میں تحریک انصاف کو حکومت ملی تو انکو پتہ چلا کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے کیوں کہ پورا سسٹم اس ناسور سے لت پت پڑا ہے۔2018 کی الیکشن مہم کے اندر عمران خان نے دوبارہ نواز شریف اور آصف زرداری کو کرپشن کی بنا پر آڑهے ہاتھوں لیا اور ان سے پائی پائی وصول کرنے كا دعویٰ کیا۔۔۔

2018 کے الیکشن کے بعد اقتدار ملتے ہی تحریک انصاف حکومت نے احتساب کا عمل شروع کرنے کا ارادہ کیا اور بد عنوان عناصر کو پکڑنے کے لئے نیب کو کھلی چھوٹ دے دی۔نیب نے اپنی کاروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا اور ان پر اربوں کی کرپشن کا الزام لگایا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں میں سے سب سے اہم گرفتاری سابق صدر آصف علی زرداری کی تھی جنکو جعلی بینک اکاؤنٹ کیس میں گرفتار کیا گیا اور اور 2 ماہ سے نیب کے ریمانڈ پر ہیں۔دوسری اہم گرفتاری خورشید شاہ کی ہے جو کہ چند دن پہلے منظر عام پر آئی۔خورشید شاہ کو آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں گرفتار کیا گیا۔پاکستان مسلم لیگ کے رہنماؤں میں سے نواز شریف کے بعد شاہد خاقان عباسی،مفتاح اسماعیل ایل این جی کرپشن کیس جب کہ خواجہ سعد رفیق پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کیس میں کافی عرصے سے نیب کی تحویل میں ہیں۔۔۔

آصف علی زرداری جعلی بینک اکاؤنٹ کیس کے نامزد ملزم نہیں ہیں بلکہ اُن اکاؤنٹ کے بینیفشری ہیں۔جعلی بینک اکاؤنٹ سے آصف علی زرداری سمیت اومنی گروپ اور 13 اور کمپنیوں کو رقوم بھیجی گئیں مگر ابھی تک نیب زرداری پر کچھ بھی ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے اور آئے دن نئے ریمانڈ کی استدعا لے کے عدالت حاضر ہو جاتا ہے۔دوسری طرف یہی حال ایل این جی سکینڈل کا ہے۔جس میں شاہد خاقان عباسی پر ایل این جی معاہدہ مہنگے داموں کرنے کا الزام ہے جسکی بنیادی وجہ کرپشن بتائی گئ ہے لیکن شاہد خاقان عباسی بھی ہر پیشی پر پہلے سے زیادہ مطمئن نظر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نیب کو اس کیس کی سمجھ ہی نہیں اور وہ انکو یہ کیس سمجھا کے ہی چھوڑیں گے۔خواجہ سعد رفیق کا کیس بھی عرصہ دراز سے لٹکا ہوا ہے اور کوئی نتیجہ نکلتا دکھائی نہیں دے رہا۔آئے دن حکومتی وزراء یہ بیان داغتے ہیں کہ زرداری اور باقی افراد کیسیز سے تنگ آچکے ہیں اور پیسے دینے پر رضامند ہو گئے ہیں لیکن دوسرے ہی دن اسکی تردید ہو جاتی ہے اور ابھی تک کسی قسم کی ریکوری نہیں ہوئی۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں کیسیز کا فیصلہ ہوتے سالوں لگ جاتے ہیں وہاں پر ان کیسیز کا نتیجہ نکلنا اور پیسہ وصولی خام خیالی ہے۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here