in

حکومت گرانے کیلئے مولانا فضل الرحمان کیا تدابیر استعمال کر رہے ہیں

مولانا فضل الرحمن “امیر جماعت علمائے اسلام ف” نے کہا کہ اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ کا فیصلہ حتمی ہے۔
“وہ عمران خان کی نااہل حکومت کو نہیں مانتا یہ سب دھاندلی کی پیداوار ہیں” جے یو ایف ضلع کمیٹی کی میٹنگ کے بعد مولانا فضل الرحمن نے میڈیا سے بات کی۔ مزید ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مارچ کا مقصد قومی اداروں سے ٹکراوں بلکل بھی نہیں ہے۔

اس کے علاوہ مولانا صاحب نے کشمیر کے مسلئے پر حکومت کو ذبردست تنقید کا نشانہ بنایا۔ مولانا نے کہا کہ عملی کام ہونا چاھئیے تاکہ دنیا کشمیر جیسے سنگین مسلئے پر ہمارے ساتھ کھڑی ہو صرف تقاریر سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ جے یو آئی ایف کے صدر کا کہنا تھا کہ عمران خان کشمیر کے مسلئہ پر امریکہ دورہ میں دنیا سے کسی بھی قسم کی سپورٹ لینے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔

چمن دھماکے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کی عام عوام کو سیکورٹی دینے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔
آج خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ احتساب اداروں کو حکومت صرف انتقامی کاروائیوں کیلئے استعمال کر رہی ہے۔

مولانا فضلالرحمن حکومت کو ڈیڈلائن دیتے ہوئے کہاکہ جےیوآئی ایف نے اس سے قبل 15 ملین مارچ کیا تھا ۔ امید ہے کہ کئی ملین لوگ اس مارچ میں شرکت کریں گے۔”ہمارے مارچ کے دوران ایک گلاس تک نہیں ٹوٹے گا ہم پرامن لوگ ہیں اور ہم اس بات کو ثابت کریں گے ہم اداروں سے ٹکراؤنہیں چاہتے کوئی بھی عوام کے فیصلے کو مسترد نہیں کر سکتا اور یہی توقعات ہم اپنے قومی اداروں سے کرتے ہیں۔

تمام پارٹیاں کو 2018 کے عام انتخاب پر خدشات ہیں آزادی مارچ کیلئے ایک واضح حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے امید ہے کہ تمام پارٹیاں ایک سٹیج پہ موجود ہوں گی میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون سے رابطے میں ہوں ہم سب ایک ہی صفحے پہ ہیں اگر ہمارے سامنے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی گی ہم ان سب کو توڑے چلے جائیں گے اگر ہمیں روکا گیا تو ہم سارے ملک کو جام کر دیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تحریک پاکستان کی پارلیمانی اجلاس کی اندرونی کہانی

سٹاک مارکیٹ میں آنے والی خوشگوار تبدیلی