پنجاب میں کیا سیاسی تبدیلیاں آ رہی ہیں؟ شہباز گل کو عہدے سے فارغ کر دیا گیا

0
110

طاقت کے مرکز پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل کے استعفیٰ کے ساتھ ہی چہ مگوئیوں اور قیاس آرائیوں کے ایک سلسلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ پاکستانی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار سماجی رابطے کی ویب ساٗئٹ ٹوئٹر پر مختلف آراء کے ساتھ سامنے آئے۔ کچھ کے بقول ڈاکٹر شہباز گل کا استعفیٰ معمول کی کاروائی ہے جبکہ اکثر یت نے اسے مستقبل قریب میں آنے والی تبدیلیوں کا عندیہ قرار دیا۔

ڈاکٹر شہباز گل نے بطور ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب نہایت دیدہ دلیری سے عثمان بزدار کا دفاع کیا اور ان پر اٹھنے والے ہر اعتراض پر پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر جارحانہ انداز سے جواب دیا۔ چند روز قبل وزیراعلیٰ عثما ن بزدار کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے بیان دیا تھا کہ جسے عثمان بزدار کی شکل پسند نہیں وہ تحریک انصاف چھوڑ دے۔ مگر اس بیان کے محض دو روز بعد خود اس وقت مستعفی ہوجانا جب کہ وزیر اعلی خود سعودی عرب کے دورے پر ہیں، کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

معروف سیاسی تجزیہ نگار اور سابق نگران وزیر اعلی ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے بقول ڈاکٹر شہباز گل کا استعفی تحریک انصاف کے اندرونی خلفشار کا عکاس ہے۔ پہلے باہر سے آوازیں اٹھ رہی تھیں مگر اب جماعت کے اندر سے بھی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ چونکہ پنجاب کی وزارت اعلی کو لے کر پارٹی کے اندر دھڑے بازی الیکشن کے نتائج کے دن سے جاری تھی اس لیے عمران خان نے عثمان بزدار جیسے غیر معروف شخص کو وزیر اعلیٰ بنا کر کسی حد تک صورتحال کو رام کرنے کی کوشش کی مگر آئے دن کے مسائل اور ان کے سدباب کے لیے پنجاب حکومت کی طرف سے جس غیر پیشہ ورانہ انداز سے کوششیں کی گئیں، اس نے عمران خان کے انتخاب کو غلط ثابت کر دیا۔

صلاح الدین قتل کیس کے بعد جس انداز سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وزیر اعلی عثمان بزدار کی صلاحیتوں پر جس انداز سے شکوک و شبہات کا اظہار کیاگیا اس نے وزیراعظم کو بھی سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ وزیراعظم کی پنجاب کے دو وزراء میاں اسلم اور راجہ یاسر ہمایوں سرفراز سے ون آن ون ملاقاتوں کے بعد نئی چہ مگوئیاں جنم لے رہی ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اگلے چند روز میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے حوالے سے اہم اعلان متوقع ہے۔ گمان غالب ہے کہ ڈاکٹر شہباز گل کا ااچانک استعفی اسی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔

مگر وزیر اعلی کی طرف سے عمران خان کے منظور نظر عون چودھری کو مشیر کے عہدے سے فارغ کرنے کی خبر اپنے اندر کسی نئے طوفان کا عندیہ لا رہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ عثمان بزدار اور وزیراعظم کے درمیان ڈاکٹر شہباز گل کے استعفےٰ کو لے کر اختلافات شدید ہو چکے ہیں اور حالات ٹکراؤ کی طرف جارہے ہیں؟ ان حالات کے تناظر میں شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کیا کردار ادا کرتے ہیں، یہ امر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے منصب کیلیے جاری دوڑ میں نہایت اہم ہوگا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here