in

عُثمان بُزدار کا جانا یقینی

ارب 55 روپے کا معاملہ۔۔۔!!! عُثمان بُزدار کا جانا یقینی ہوگیا، تمام وزراء عمران خان کے سامنے پھٹ پڑے، بغاوت کی دھمکی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی کابینہ میں پنجاب کے وزراء وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف پھٹ پڑے، وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے علاقے کیلئے 55 ارب کے فنڈز جاری کیے، جبکہ پنجاب کے ایم پی ایز کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں 12 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، کابینہ نے 6 نکات کی منظوری دے دی ہے۔

 

اجلاس میں حکومت کی 15ماہ کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزراء وزیراعلیٰ پنجاب کے علاقے میں ترقیاتی بجٹ پر پھٹ پڑے، وزراء نے شکایت کی کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے علاقے کیلئے 55ارب کے فنڈز جاری کیے، جبکہ پنجاب کے ایم پی ایز کو فنڈزجاری کرنے میں امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔اجلاس میں عمران خان نے نوازشریف کی واپسی کیلئے فروغ نسیم اور شہزاد اکبر کو ٹاسک سونپ دیا کہ قانونی طریقہ کار کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کو خط لکھیں، نوازشریف 4 ہفتوں کیلئے لندن گئے تھے، لیکن تاحال واپسی کے آثار نظر نہیں آرہے۔ اجلاس میں وزیر اعظم نے وزارت توانائی سے تفصیلی بریفنگ لی۔ وزیرتوانائی نے بتایا کہ جب ہم آئے تو سرکلرڈیبٹ میں کس طرح کمی کی۔

جس ریٹ پر بجلی پیدا کی جارہی تھی اور بجلی خریدی جارہی تھی۔ اس میں ٹیرف کا فرق تھا، اس کو دیکھا گیا اور گردشی قرضوں کی رقوم کو کم کرکے 12 ارب پر لایا گیا۔ حکومت نے گھریلوصارفین کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کی مد میں ریلیف دینے کیلئے اب تک 242 ارب کی سبسڈی دی ہے۔ صنعت کو کھڑا کرنے کیلئے 29 ارب کی سبسڈی دی گئی۔ زرعی شعبے کو 100ارب کی سبسڈی دی جارہی ہے۔

 

کابینہ کو بتایا گیا کہ اس سبسڈی میں ہمارے گھریلوصارفین کیلئے 45 ارب کا مزید اضافہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے لائن لاسز کم کرنے پر ٹیم کو مبارکباد دی۔منسٹری آئل اینڈ گیس نے بتایا کہ گیس اور پٹرول کے شعبے میں حکومت کو 181ارب کا خسارہ ورثے میں ملا۔ وزیراعظم نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی ہدایت کردی۔وزیراعظم نے ہدایت کی سردیوں میں گیس کی سپلائی بحال رکھی جائے۔

 

گیس کی مد میں 19 ارب کی سبسڈی دی گئی۔اگلے سال گیس میٹرز بنانے کا کارخانہ فعال بنایا جائے گا۔ کابینہ نے ہندوستان کی لوک سبھا نے ایسا قانون پا س کیا کہ دنیا بھر میں جہاں بھی ہندورہتے ہیں وہ ہندوستان میں آکر شہریت لے سکتے ہیں، دراصل درپردہ ان ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں آباد کرنا ہے۔ کابینہ نے اس قانون سازی کی شدت سے مذمت کی ہے۔

 

 

یہ آرایس ایس کے نظریے کے ایجنڈے کو ترویج دینے کی عملی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ میں قانون سازی کے عمل پر بھی بات چیت کی گئی۔ ایسا قانون لایا جائے کہ وہ لوگ جو سزیافتہ ہیں ، اور کرپشن کیسز میں سزائیں پانے کے بعد وکٹری کے نشان بنا کرمیڈیا کی زینت بنتے ہیں۔ جو لوگ پاکستان کو مطلوب ہیں وہ میڈیا پر آکر انٹرویو دیتے ہیں اور بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان کے قوانین کا مذاق اڑاتے ہیں۔

 

وزیرقانون کو قانون سازی کے حوالے سے ٹاسک دیا گیا ہے، معاشرے میں سچ اور جھوٹ کا فرق کرنا ہوگا۔ چور ڈاکو قوم کے ساتھ ناانصافی کرنے والے افراد مسیحا کی صورت میں میڈیا کی زینت بنیں گے تو معاشرہ ٹھیک نہیں ہوگا۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان اورمتعدد وزراء نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کردی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی معاہدہ

جنرل قمر جاوید باجوہ کو مدت ملازت میں توسیع لینی چاہیئے یا نہیں ؟