پرویز مشرف کو ابتدائی دنوں میں یہ مشورہ دیا گیا تو کیا ہوا تھا ؟ جانیے

وفاقی وزیر غلام سرور خان نے سیدھی بات کر دی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ …’’ 35سال تک ملک کو لوٹنے والے موت کے حقدار ہیں…‘‘ خان صاحب کی بات بالکل درست ہے مگر ان 35سالوں میں وہ خود بھی کار زار سیاست میں رہے ہیں۔ پہلے وہ اور چودھری نثار علی خان مل کرنامور کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ الیکشن لڑتے تھے ،نثار علی خان قومی اسمبلی اور سرور خان صوبائی اسمبلی کا حصہ بنتے رہے، پھر نثار علی خان مسلم لیگی بن بیٹھے اور غلام سرور خان پیپلز پارٹی کا حصہ بن گئے، بعد میں ق لیگ اور پھر تحریک انصاف کا حصہ بنے۔2018ء کے الیکشن میں انہوں نے نثار علی خان کو چاروں شانے چت کیا۔ اب وہ خود وفاقی وزیر ہیں، بیٹا ایم این اے ہے اور بھتیجا ایم پی اے ۔غلام سرور خان آج بھی اپنےگائوںمیں رہتے ہیں، گائوں سے روزانہ اسلام آباد آتے ہیں،کئی مرتبہ وفاقی وزیر رہنے کے باوجود انہوں نے گائوں نہیں چھوڑا، ان کا اسلام آباد میں کوئی گھر نہیں، انہوں نے دیہاتی لوگوں کی طرح سیدھی بات کی ہے، میرے نزدیک بھی ملک کولوٹنے والوں کی سزا موت ہے ۔

جنرل مشرف کےابتدائی سالوں میں نیب میں تعینات ایک جرنیل نے ان سےکہا تھا کہ …’’ سر! کسی بھی بدعنوان آدمی کو جمعہ کے روز ایک انگلی سے محروم کر دیا جائے اگلے جمعے کو دوسری، اسی طرح تیسری اور پھر آخر میں ہاتھ، میرا خیال ہے کہ ایک انگلی سے محروم ہونے کے بعد دوسری کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ اگلے جمعے تک وہ پیسے لے کر آ جائے گا…‘‘جنرل مشرف سیاستدانوں کے جال میں پھنس چکے تھے، انہوں نے اس تجویز کو رد کردیا اور عدالتوں کے ساتھ ساتھ قانون کی بات کی۔ پرویز مشرف کےپاس حساب کتاب کا سنہری موقع تھا مگر انہوں نے حساب کتاب کی بجائے اقتدار کا انتخاب کیا۔

یہی ان کی غلطی تھی۔ غلام سرور خان کی بات سیدھی اور سادہ ہے اس سلسلے میں ایک سادہ سا حل ہے کہ ان سیاستدانوں سمیت زندگی کے مختلف شعبوں کے لوگوں کے اثاثے چیک کر لئے جائیں کہ 85ء میں کیا تھے اور آج 35 سال بعد کیا ہیں، حساب خود بخود ہو جائے گا پھر معافی کسی کو نہ دی جائے۔ بقول مرتضیٰ برلاس: جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی۔۔کبھی تو ان کا حساب ہوگا۔۔آج مجھے انقلاب چین کے عظیم رہنما مائوزے تنگ یاد آ رہے ہیں۔ انہوں نے سچ بولتے ہوئے کہا کہ …’’میری قوم ایک عرصے سے مغرب کی غلام تھی، ہم پوست کاشت کرتے تھے اور افیون تیار ہوتی تھی پھر میں نے ان جاہلوں کو پڑھانے کی کوشش کی تو انہوں نے علم کو

جھٹلادیا، میں نے ان لوگوں سے ہمیشہ کے لئے ووٹ کا حق چھین کر یہ اختیار صرف علم والوں کو دے دیا اور اسی گھسی پٹی جمہوریت سے چین میں انقلاب برپا کر دیا، آپ کی تو الہامی کتاب کہتی ہے کہ علم رکھنے والے اور نہ رکھنے والے برابر نہیں ہو سکتے پھر آپ کے آئین میں جاہلوں کو اس فیصلے کا حق کیوں دیا ہوا ہے؟…‘‘اگر یہ حق صرف پڑھے لکھوں کو دے دیا جائے تو پھر لٹیرے کیسے جیتیں گے پھر کرپشن اور لوٹ مار کا کھیل ختم ہو جا ئےگا، ان پڑھ لوگوں کے ووٹوں سے تو یہ لوگ جیت کر آتے ہیں اگر ان پڑھ ووٹرز نہ ہوں تو یہ لوٹ مار کرنے والے ایوانوں تک نہ پہنچ سکیںگے۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ ایچی سن کالج میں پڑھنے والاایک سیاست دان اپنے آبائی حلقے میں نہ لڑکوں کا کالج بننے دیتا ہے اور نہ ہی لڑکیوں کا، اسی طرح ہمارے کئی پڑھے لکھے سیاستدان اپنے علاقوں میں تعلیمی ادارے نہیں بننے دیتے۔جھوٹ کی بھی کوئی سزا ہونی چاہیے، اب جب نیب میں ہمارے سیاستدانوں کو بلایا جاتا ہے تو وہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں، کہتے ہیں ہم نے اتنے برس قوم کی خدمت کی، جیسے انہوں نے گھر سے خدمت کی ہو، پھر وہ ایسی ایسی کرنسی کا نام لیں گے جو اب متروک ہو چکی ہیں مثلاً آپ نے بہت دفعہ سنا ہوگا کہ کچھ سیاستدان کہتے ہیں کہ دھیلے کی بدعنوانی نہیں کی، ایک پائی بھی نہیں لوٹی، ہم پر ایک دمڑی ثابت نہیں ہوسکتی۔

پچھلے چالیس پچاس برسوں سے نہ دمڑی ہے، نہ پائی اور دھیلا کہیں نظر نہیں آیا، میرا خیال ہے کہ وہ ان کرنسیوں کے نام اپنے والد بزرگوار سے سنتے ہوں گے، اسی لئے دماغ میں دھیلا، پائی اور دمڑی آتی ہے، یہاں تو حالت یہ ہے کہ محض ذاتی رنجش کی بنا پر عتیقہ اوڈھو کے سلسلے میں ازخود نوٹس لیا جاتا ہے۔ 9سال میں 210(دو سو دس) پیشیاں ہوتی ہیں، سولہ جج تبدیل ہوتے ہیں اور بالآخر 9سال دو ماہ اور چودہ روز کے بعد عتیقہ اوڈھو کو باعزت بری کردیا جاتاہے۔

انصاف کی اس سے اچھی مثال اور کیا ہو سکتی ہے؟یہاں ایک سیاستدان کی بیٹی نے کہا کہ اس کی باہر تو کیا ملک میں بھی کوئی جائیداد نہیں، پھر ایک کرشمے کے طور پر اس کے چودھری شوگر ملز، حدیبیہ پیپرز ملز اور حدیبیہ انجینئرنگ پرائیویٹ لمیٹڈ میں شیئر نکل آتے ہیں، حمزہ سپننگ ملز اور محمد بخش ٹیکسٹائل ملز میں بھی حصہ نکل آتا ہے، شہزاد اکبر کے بقول 19ملین کی ایک ٹی ٹی بھی اس کے اکائونٹ کا حصہ بنی۔ پتہ نہیں نیب نے 1440کنال اراضی کہاں سے نکال لی، ہل میٹل سے اس کے اکائونٹ میں رقم کیسے آئی، تین برسوں میں اس کی زمین میں 548کنال کا اضافہ کیسے ہوگیا، اب دو سو ایکڑ کا اور قصہ نکل آیا ہے۔ احسن اقبال کے تازہ فرمان نے ان کی پارٹی کے پورے بیانیے کو دھوکر رکھ دیا ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اگست میں ضیاء الحق کی برسی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *