کیکڑا و ن سے تیل اور گیس کی ذخائر کی دریافت کے کیا نتائج نکلے

مسلم لیگ کی سابقہ حکومت نے تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئ لاگت کو دیکھتے ہوئے ملک میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت کرنے کی کوششیں کیں اور اسی پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکہ کی کمپنی ایگزون کے ساتھ کراچی کے سمندر کے اندر ڈرلنگ کا معاہدہ کیا تا کہ تیل اور گیس کی درآمد کو کم کر کے ملکی زرمبادلہ کو بچایا جا سکے۔۔یہ معاہدہ ایگزون موبل،پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ،ای این آئی اور او جی ڈی سی ایل کے درمیان طے پایا۔۔۔

اسی معاہدے کو آگے بڑھاتے ہوئے چاروں کمپنیوں نے ایک دوسرے کی معاونت کرتے ہوئے مئی 2019 میں کراچی سے 280 کلومیٹر فاصلے پر واقع کیکڑا-1 میں ڈرلنگ کا آغاز کیا اور 14 بلین کی لاگت سے گہرے سمندر کے اندر تقریباً 5500 میٹر تک ڈرلنگ کی گئی۔ڈرلنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی کمپنی کو زیرِ زمین پُش ملنا شروع ہو گئی جو کہ تیل اور گیس کے زخائر کی پیشگی اطلاع سمجھی جاتی ہے۔اس خبر کے ملتے ہی ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی کیوں کہ ڈرلنگ سے پہلے یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ کیکڑا-1 سے 9 ٹریلین کیوبیک فٹ گیس اور تیل کے ذخائر موجود ہیں جو کہ 50 سال تک ملکی ضروریات پوری کریں گے۔اگلے ہی دن 3 وزراء نے کیکڑا و ن کا دورہ کیا اور قوم کی امیدوں کو اور مضبوط کر دیا۔ وزیرآعظم پاکستان جناب عمران خان نے اپنے قوم سے خطاب میں سب کو شکرانے کے نوافل ادا کرنے کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مشکلات بہت جلد ختم ہونے والی ہیں اور دو ہفتوں کے اندر قوم کو بہت بڑی خوش خبری سننے کو ملے گی لیکن قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔۔

پاکستان اپنی ایندھن کی ضروریات کا 36% قدرتی گیس پر انحصار کرتا ہے اور باقی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہر سال پٹرولیم مصنوعات پر کثیر رقم خرچ کرتا ہے۔کیکڑا-1 کے زخائر سے یہ امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ نہ صرف پاکستان تیل اور گیس میں خود کفیل ہو جائے گا بلکہ اسکو بر آمد بھی کر سکے گا لیکن ڈرلنگ کے کچھ ہی ہفتوں بعد او جی ڈی سی ایل کے آفیشل ذرائع سے یہ خبر آئی کہ کیکڑا-1 میں تیل اور گیس کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے ڈرلنگ روک دی گئ ہے۔اس خبر نے پوری قوم کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور ڈرلنگ پر لگنے والی 14 ارب کی خطیر رقم بھی ضائع ہو گئ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *