آرٹیکل 149 سے کراچی پر کیا اثر پڑے گا

کراچی کے مسئلے کو لے کر پچھلے چند ماہ سے ملکی سطح پر کافی ہلچل مچی ہوئی ہے. پہلے پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر علی زیدی کے دو ہفتوں میں کراچی کا کچرا صاف کرنے کے بیان کے بعد سربراہ پاک سرزمین پارٹی، سابق ناظم کراچی مصطفی کمال اور موجودہ ناظم کراچی وسیم اختر کے درمیان ہونے والے غیر سنجیدہ ڈرامہ دیکھنے کو ملا اور اب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر بیرسٹر فرخ نسیم کی پریس کانفرنس نے حالات کو گرما دیا.
بیرسٹر فرخ نسیم نے پریس کانفرنس میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل (4) 149 کے کراچی میں نفاذ کی بات کی جس کے مطابق وفاقی حکومت کسی بھی صوبائی حکومت کو اس وقت ہدایات جاری کر سکتی ہے جب وہ صوبہ یا کوئی علاقہ امن و امان یا اقتصادی حوالے سے سنگین خطرات کا شکار ہو. وزیراعظم نے کراچی کے معاملات میں تجاویز کےلیے وفاقی وزیر قانون کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی جس نے سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کر دیا

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آرٹیکل 149 کے نفاذ پر ردّ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے اس سلسلے میں نہ ہی کوئی مشورہ لیا نہ ہی کسی فورم پر اس پر بات چیت کی. وزیر اعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت کے متوقع اقدام پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا اور برملا کہا کہ کراچی کی صفائی کی صورتحال کو لے کر وفاقی حکومت کا یہ اقدام غیر آئینی ہوگا. وزیر اعلیٰ کے بیان کے بعد یہ قیاس آرائی جاری ہے کہ آرٹیکل 149 کے نفاذ کی صورت میں سندھ حکومت اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی.

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے حیدرآباد میں دبنگ اعلان کیا کہ ان کی پارٹی ہر صورت مجوزہ اقدام کا مقابلہ کرے گی اور کراچی کو اسلام آباد سے کنٹرول کرنے کے خواب کو چکنا چور کرے گی. بلاول بھٹو زرداری کے بقول ماضی میں کی گئی انہیں غلطیوں کی وجہ سے صوبوں اور وفاق میں نفرت پھیلی جس کا نتیجہ سقوط ڈھاکہ کی صورت میں ہوا.
بلاول کےسندھ اور پختون آزاد ریاست کے خدشے کے بیان پر شدید تنقید جاری ہے تو ساتھ تقریباً تمام قوم پرست جماعتیں سندھ حکومت کے ساتھ کھڑی نظر آ رہی ہیں. مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگاڑا نے وفاقی حکومت سے کراچی کو دارالحکومت حکومت بنانے کا مطالبہ کر دیا اور کراچی کو وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام لانے کے منصوبے کی شدید مذمت کی

اس صورتحال میں لگ یہی رہا ہے کہ سندھ کی صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت میں کراچی کے مسئلے کو لے کر محاذ آرائی یقینی ہے جس کا پہلا میدان قانونی جنگ کی صورت میں سپریم کورٹ میں سجے گا. کراچی کے معاملے پر مزید کیا پیش رفت ہو گی، سندھ حکومت اور مرکزی حکومت کس حد تک جائیں گی اس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی ہوگا اور مزید صورتحال واضح ہو گی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *