امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا نیا موڑ کیا ہوگا

0
57

اکیسویں صدی کے آغاز سے جاری افغان جنگ میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ کے ذریعے امریکہ طالبان امن مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا۔1979 میں روسی فوجوں کی افغانستان پر حملے کے بعد سے اب تک افغان عوام مسلسل جنگ کی ہولناکیاں سہ رہی ہے۔ روسی افواج کے خلاف دس سالہ افغان جہاد ہو،مجاہدین کے درمیان سول وار ہو،تحریک طالبان افغانستان اور مجاہدین کے درمیان کابل پر کنٹرول کے لئے خونی جھڑپیں ہوں یا امریکہ کی افغانستان پر چڑھائی ہو،افغان عوام کے حصے میں خوف،وحشت اور لاشیں اٹھانے کے سوا کچھ نہیں آیا۔نائن الیون کے بعد سے جاری گوریلا جنگ میں افغان طالبان،افغان حکومت اور امریکہ مسلسل کنٹرول کے لئے سرگرداں رھے مگر ۱8 سال گزرنے کےبعد بھی کوئی فریق جنگ کے ذریعے نمایاں کامیابی حاصل نہ کر سکا۔بلآخر مذاکرات ہی وہ رستہ ٹھہرا جس پر چل کر افغان امن کا حصول تجویز کیا گیا مگر حالیہ واقعات نے ایک بار پھر افغان امن کے حصول کو دھندلا دیا۔

افغانستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلسل جنگ کی کیفیت مسئلے کا حل نہیں بلکہ جنیوا معاہدہ کے طرز پر افغان امن ایک جامع اور مکمل امن پلان مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔موجودہ صورتحال کے مطابق افغان طا لبان تقریبا 55 فیصد علاقے پر اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں اور آئے روز بم دھماکوں،راکٹوں اور گوریلا جھڑپوں کے ذریعے افغانستان کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے سرگرداں ہیں۔اس صورتِ حال میں امن مذاکرات ہی مسئلے کا واحد حل ہیں جس میں پاکستان کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔حالیہ دورہ امریکا کے دوران پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے سنجیدگی کے ساتھ افغانستان امن مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا اور ہر ممکن تعاون کی یقین دھانی کرائی۔امریکہ کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ جنگ کے ذریعے افغان مسئلے کا حل ممکن نہیں لہٰذا اُسے علاقائی طاقتوں خصوصاً پاکستان کی کوششوں کے ذریعے افغانستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا ہو گا کیونکہ انٹرا افغان ڈائلاگ کامیابی کے ساتھ تکمیل تک پہنچانے کا یہی واحد رستہ ہے۔ ورنہ دوسری صورت میں بہت سے بے گناہ افغان باشندوں کی ہولی کا کھیل دوبارہ شروع ہو جائے گا ۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here