بھارت کے ساتھ کشمیر پے کیا معملات چل رہے ہیں ،جانئے

0
59

قانون آزادئ ہند کے مطابق ہندوستان کی تمام ریاستوں کے راجاؤں کو دو آپشنز دیے گئے کہ یا تو وہ اپنی ریاست کا الحاق پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک ملک کے ساتھ کر دیں یا اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھیں لیکن ساتھ ہی ان راجاؤں کو یہ تاکید کی گئی کہ وہ کوئ بھی فیصلہ کرتے وقت اپنی ریاست کے عوام کی خواہشات کا خیال رکھیں۔کشمیر کی عوام کی اکثریت مسلمان تھی جب کشمیر کا راجہ ہری سنگھ ہندو تھا چناچِہ پاکستان اور بھارت دونوں کے لیڈروں نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے کشمیر کو اپنے ساتھ ملانے کی کوششیں کیں لیکن کشمیر کے راجہ نے ۱۵ اگست 1947 کو کسی بھی ملک کے ساتھ الحاق کرنے کی بجائے آزاد رہنے کا اعلان کیا۔۔

اکتوبر 1947 میں پاکستانی قبا ئلیوں کی کشمیر میں مداخلت پر مہاراجہ ہری سنگھ نے انڈین حکومت سے مدد کی درخواست کر دی لیکن انڈین حکومت نے الحاق کی شرط کے بغیر مہاراجہ کی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔بلآخر مہاراجہ نے کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ کر دیا اور بھارت نے کشمیر میں اپنی فوجیں اتار دیں۔اسطرح پاکستان اور بھارت کے درمیان حکومتی سطح پر جنگ چھڑ گئی۔بعد میں اقوامِ متحدہ کی مداخلت پر دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدہ کے تحت جنگ بندی ہوئ جس میں کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیا گیا اور جنگ بندی کے نتیجے میں کشمیر کا ایک حصہ(آزاد کشمیر) پاکستان کے کنٹرول میں آگیا جب کہ دوسرا حصہ(مقبوضہ جموں کشمیر) بدستور بھارت کے کنٹرول میں رہا۔۔

پاکستان اور بھارت دونوں ہی کشمیر کو اپنا مستقل حصہ بنانا چاہتے ہیں۔پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ جب کہ بھارت اٹوٹ انگ قرار د ے چکا ہے اور دونوں ملک اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ہندوستان کی تقسیم سے لے کر دونوں ملکوں کے حالات کبھی بھی اچھے نہیں رھے۔دونوں ملک آپس میں کئی جنگیں لڑ چکے ہیں جسکی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے۔1998 میں دونوں ملکوں کے نیوکلیئر پاور بننے کے بعد مذاکرات ہی تنازعہ کشمیر حل کرنے کا واحد حل ہیں لیکن عدم مذاکرات اور اقوامِ متحدہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ مسئلہ 70 سال سے لٹک رہا ہے جس کا خمیازہ کشمیری عوام بھگت رہے ہیں۔۔۔

کشمیر کی صورتحال اس وقت گھمبیر ہوئ جب 5 اگست2019 کو بی جے پی حکومت نے آرٹیکل 370 کو ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کو متنازع علاقہ ختم کر کے اپنی سرحد کا باقاعدہ حصہ قرار د ے دیا جس پر پاکستان نے بھارت کی اس ہٹ دھرمی پر شدید احتجاج کیا۔یہ اقدام پاکستان کے مفاد کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے کیوں کہ اقوامِ متحدہ کشمیر کو پہلے ہی متنازع علاقہ قرار دے چکی ہے۔بھارت پچھلے کئ سال سے کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے لیکن عالمی برادری بھارت کو سفارتی دباؤ میں لانے میں ناکام رہی هے کیوں کہ بھارت ماضی کی نسبت معاشی لحاظ سے بہت طاقتور بن چکا ہے اور دنیا میں اپنی ساکھ قائم رکھے ہوئے ہے یہی وجہ ہے کہ بھارت کشمیر کو اپنا اندرونی مسئلہ قرار دیتے ہوئے عالمی دباؤ کو خاطر میں نہیں لا رہا جب کہ دوسری طرف پاکستان کو ناکام سفارتکاری اور بگڑتی ہوئ معاشی صورتحال کی وجہ سے اس محاذ پر کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔مقبوضہ کشمیر میں پچھلے 40روز سے کرفیو کی صورتحال ہے لیکن ابھی تک عالمی برادری بھارت کو بیک فٹ پر لانے میں ناکام رہی ہے۔موجودہ حالات میں کشمیر کا مسئلہ پہلے سے زیادہ گھمبیر ہو چکا ہے اور اگر اسکو بر وقت حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here